10 اکتوبر 2026 - 18:15
عراق پر اقتصادی غلبہ مسلط کرنے کی امریکی کوششیں جاری ہیں: عراقی رہنما

عراق کے شیعہ سیاسی اتحاد ’’کوآرڈینیشن فریم ورک‘‘ کے رکن معین الکاظمی نے کہا ہے کہ امریکا عراق کی معیشت کے اہم شعبوں، بالخصوص توانائی کے شعبے میں اپنا اثر و رسوخ اور غلبہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مغربی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرکے مختلف عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، معین الکاظمی نے ہفتے کے روز ایک گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن عراق پر اپنا معاشی غلبہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کا مقصد اہم اور حساس تزویراتی فیصلوں، بالخصوص تیل اور توانائی کے شعبے پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جبکہ یہ شعبہ ملکی معیشت کی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

الکاظمی نے وضاحت کی کہ موجودہ صورت حال میں توانائی اور تیل کے شعبے کو امریکی انحصار اور اثر و رسوخ سے آزاد کرانے کے لیے واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں میں واشنگٹن سے وابستہ کمپنیوں کی اجارہ داری بھی ختم کی جانی چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس راستے کو جاری رکھنے سے عراق کی توانائی کی سلامتی بیرونی دباؤ اور سیاسی بلیک میلنگ کی زد میں آ سکتی ہے۔

الکاظمی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مشرقی اور مغربی خطوں کی بڑی اور معتبر عالمی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرکے سرمایہ کاری کے متبادل ذرائع میں تنوع پیدا کرے۔

ان کے مطابق، اس اقدام سے تزویراتی توازن برقرار رکھنے، ملک کی معاشی خودمختاری کے تحفظ اور عراق کے وسائل اور صلاحیتوں پر امریکی غلبے کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کمپنیوں، بالخصوص ’’شیورون‘‘ کے ذریعے عراق کے تیل کو بحیرہ روم تک پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہی کمپنیاں بحیرہ روم میں صیہونی ریاست کے گیس کے میدانوں، بشمول ’’تامار‘‘ اور ’’لیویاتان‘‘، سے گیس نکالنے کا کام بھی کرتی ہیں۔

اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے توانائی کے معاملات کو واشنگٹن کی سربراہی میں ایک ہی نظام کے تحت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد تیل کو مستقبل میں صیہونی ریاست کے خلاف سیاسی یا معاشی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کے امکان کو ختم کرنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha